پاکستان میں آئی ایم ایف کے ریذیڈنٹ چیف نے قرضوں کے بوجھ کو پاکستان کے لیے ایک چیلنج قرار دیا ہے۔جمعرات کو پاکستان ریٹیل بزنس کونسل کے زیراہتمام منعقدہ ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان میں آئی ایم ایف کے ریذیڈنٹ چیف ماہر بنجی نے کہا کہ پاکستان کی معیشت کو درپیش سب سے سنگین چیلنجز میں قرضوں کا بوجھ ہے جس کی بنیادی وجہ ٹیکس وصولی کی صلاحیت میں کمی اور محصولات پیدا کرنے میں ناکامی ہے۔انہوں نے کہا کہ ٹیکسوں کا بڑا دباؤ روایتی شعبے پر ہے، رسمی شعبے پر مالی بوجھ کی بڑی وجہ یہ ہے کہ بہت سے مخصوص شعبے قومی خزانے میں حصہ نہیں دے رہے۔بزنس کونسل سے خطاب میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ ملک غیر ضروری مراعات کا متحمل نہیں ہو سکتا، مکمل رائٹ سائزنگ پلان تیار کر لیا ہے، معیشت میں ریٹیل سیکٹر کا حصہ 19 فیصد ہے، جب کہ ٹیکس ایک فیصد ہیں۔اے، آرٹیفیشل انٹیلی جنس استعمال کرکے ٹیکس بڑھائیں گے، مینوفیکچرنگ سروسز اور تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کا بوجھ غیر متناسب ہے، تمام شعبوں کو ٹیکس نیٹ میں آنا ہوگا، زراعت، رئیل اسٹیٹ اور ریٹیل سیکٹرز کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔وزیر خزانہ نے کہا کہ 9400 ارب روپے کیش کی دستاویز کرنی ہیں، قومی ایئرلائن کی دوبارہ نجکاری کرنے جا رہے ہیں، 30 جون تک تمام اداروں کی رائٹ سائزنگ کا عمل مکمل کر لیں گے۔
ترقی پاکستان کا مقدر بن چکی، بھارت کو پیچھے نہ چھوڑا تو میرا نام شہباز شریف نہیں: وزیراعظم
خیبرپختونخوا :نگران دور میں بھرتی تمام ملازمین برطرف، اعلامیہ جاری
کوئی احتجاج نظر نہیں آرہا گرینڈ الائنس میں شامل تمام جماعتیں حکومت کے ساتھ ہیں، فیصل واوڈا
ڈونلڈ ٹرمپ نے سیاہ فام امریکی جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے چیئر مین کو فارغ کر دیا
راولپنڈی میں سکیورٹی آپریشن؛ اہم کمانڈر سمیت 16 افغان باشندے گرفتار
چیف جسٹس نے پی ٹی آئی کو سسٹم میں رہنے اور بائیکاٹ نہ کرنے کا مشورہ دیا: بیرسٹر گوہر
اپوزیشن جماعتوں کا حکومت مخالف اتحاد کو مزید وسعت دینے کا فیصلہ
جہاں الیکشن چوری ہو، وہاں معیشت نہیں چل سکتی، شاہد خاقان
وفاقی حکومت نے شکیل آفریدی کی حوالگی کے عوض عافیہ صدیقی کی رہائی کی تجویز مسترد کردی
لندن: جین تھراپی سے بچپن کے اندھے پن کا علاج